پی ایس فائنل اور عمران خان
عمران خان کا شروع دن سے وطیرہ رہا ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کرے چاہے وہ کوئی اچھا کام ہو چاہے کچھ غلط ہو اس کی مخالفت کرنا اور اس کے بارے میں کوئی الٹا سیدھا بیان دینا۔پی ایس ایل کے فائنل کےلئے عمران خان نے 21 فروری کو اعلان کیا تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل پاکستان میں کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہمیں یہ فرض ہر حال میں پورا کرنا چاہیے۔اب عمران خان کی بدقسمتی کہ نجم سیٹھی نے اپنے ایک سال پہلے کے اعلان کے مطابق شدید ترین دہشت گردی کے خطرات اور دھمکیوں کے باوجود پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے کے انتظامات کر لیے اور فائنل لاہور میں ہونے کے انتظامات پورے ہو گئے تو عمران خان نے اپنا روایتی یوٹرن لیتے ہوئے پی ایس ایل فائنل لاہور میں کروانے کو پاگل پن قرار دے دیا۔ لیکن شاید حکومتی ذمہ داران کی نظر میں عمران خان کی اپنی حیثیت بھی ایک پاگل کے برابر ہے اس لیے حکومت نے ان کے اس روایتی یوٹرن کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فائنل لاہور میں ہی کروا دیا۔اور پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی محنت اور اللہ تعالٰی کے فضل سے فائنل پرامن طریقے سے ہوگیا۔
اس پر عمران خان نے اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے ایک اور احمقانہ بیان دیتے ہوئے فائنل میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو پھٹیچر قرار دے دیا۔ جس پر کہ عمران خان کو مسلسل تنقید کا نشانہ بننا پڑرہا ہے۔ اور پی ٹی آئی کے سپورٹران کےلئے اس بات پر عمران خان کا دفاع کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔
اگر عمران خان کے بقول پی ایس ایل فائنل میں حصہ لینے والے کھلاڑی پھٹیچر ہیں تو نوائے وقت کے فیچر رائٹر اور تحقیقاتی صحافی سید بدرسعید کے مطابق اگر دوورلڈکپ جتوانے والا کھلاڑی پھٹیچر ہے تو اس کلیے کے مطابق خود عمران خان آدھا پھٹیچر بنتا ہے۔
خان صاحب اب آب ماشاء اللہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے بزرگ ہوچکے ہیں۔ اب خدارا ذہنی بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں اور اگر خود آپ میں سوچنے کی صلاحیت نہیں تو اپنی پارٹی میں موجود کسی دوسرے شخص سے ہی پوچھ لیا کریں۔
ورنہ آپ کو تو شاید کوئی فرق نہ پڑتا ہو لیکن آپ کے سپورٹرز کےلئے آپ کے ان احمقانہ بیانات کا دفاع بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
PSL Final and Imran Khan
Reviewed by Unknown
on
20:17
Rating:
Reviewed by Unknown
on
20:17
Rating:

No comments: