کہا جاتا ہے کہ اگر کسی ملک کا مستقبل دیکھنا ہو تو رات کے وقت اس ملک کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز اور تجربہ گاہوں(لیبارٹریوں) کو دیکھو۔اگر وہ روشن نظر آئیں تو سمجھ لو کہ اس ملک کا مستقبل روشن ہے اور اگر ان میں اندھیرا چھایا ہو تو یہ اس ملک کے مستقبل کی ایک خوفناک جھلک کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
آج لاہور میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی آمد ہے۔
ترک صدر کی لاہور آمد پر ان کے استقبال کےلیے لاہور ایئرپورٹ سے لیکر اقبال پارک تک کے تمام راستے کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے۔ پورا مال روڈ برقی قمقموں سے جگمگا رہا ہے۔ اور لوڈ شیڈنگ سے بـچنے کے لیے جنریٹرز کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس وقت اگر کسی بھی ٹی وی چینل کو دیکھا جائے تو وہاں پر مال روڈ کی چمکتی ہوئی روشنیوں اور رجب طیب اردگان کے استقبال کی تیاریوں کو زور و شور کے ساتھ دکھایا جا رہا ہے۔
پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے تجارتی اور ثفافتی معاہدوں کی تفصیلات کو پیش کیا جا رہا ہے۔
سب سے زیادہ زور مال روڈ کی سجاوٹ اور جگمگاہٹ پر صرف کیا جا رہا ہے۔
لیکن آج دن بھر مال روڈ کی سجاوٹ اور روشنیوں کی چکا چوند کی خبریں سننے کے بعد شام کے وقت جب استنبول چوک سے مال روڈ کو کراس کرتے جب میری نظر جامعہ پنجاب کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی عمارت پر پڑی تو ایک لمحے کےلیے دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔ اور مجھےدانشوروں کا یہ قول یاد کرکے کہ "اگر کسی قوم کا مستقبل دیکھنا ہو تو رات کے وقت اس ملک کے کالجوں اور جامعات کو دیکھو، ان کی حالت میں اس ملک کا مستقبل نظر آ جائے گا" ۔
ترکی کے صدر کی آمد پر ان کے راستے میں آنے والی تمام سڑکوں پر موجود پلازوں اور تجارتی مراکز کو بند کر دیا گیا۔
ہمارے بہت ہی معزز مہمان اور دوست نے اپنی آمد سے پہلے ہمارے ملک میں چلنے والے بہترین سکولوں(پاک ترک سکولز) کو بند کر وا دیا کہ وہ اس کے سیاسی مخالف فتح اللہ گولن کے ادارے کے تحت چلتے ہیں۔ اور ہمارے ملک کے حکمرانوں نے مال روڈ کو تو برقی قمقموں سے سجا دیا لیکن ان کی نظر اندھیروں میں ڈوبی جامعہ پنجاب پر نہ گئی۔ کاش کہ وہ جامعہ پنجاب کو بھی روشن کرنے کا کوئی انتظام کر دیتے ۔
لیکن ان کی نظر میں شاید تعلیم اور جامعات کی کوئی اہمیت نہیں۔اور تعلیم کی اہمیت سے صرف نظر ملک اور قوم کے مستقبل سے صرف نظر ہے۔
ترک صدر کی آمد| روشنیوں سے جگمگاتا مال روڈ اور اندھیروں میں ڈوبی جامعہ پنجاب
Reviewed by Adv M Asim Awan
on
09:13
Rating:
Reviewed by Adv M Asim Awan
on
09:13
Rating:

No comments: